19 نومبر 2014 - 10:29
ایٹمی مسئلے پر ویانا میں مذاکرات جاری ہیں + تصویر

ايران کے ايٹمي مسئلے پر مذاکرات جاري ہيں اور ويانا ميں دو فريقي اور سہ فريقي مذاکرات انجام پائے ہيں ـ

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ايران کے نائب وزير خارجہ مجيد تخت روانچي اور عباس عراقچي نے منگل کي شام سينيئر امريکي سفارت کار وليم برنز اور امريکي وزارت خارجہ ميں سياسي امور کي ڈائريکٹر ونڈي شرمن سے گفتگو کي اس کے بعد يورپي يونين کي نمائندہ کيتھرين ايشٹن کے مشير ہلگا اشميڈ نے بھي اجلاس ميں شرکت کي اور سہ فريقي مذاکرات انجام پائےـ ايراني وفد نے چين کے مذاکرات کاروں سے بھي ملاقات کي ـ بدھ کے روز بھي مذاکرات کا سلسلہ جاري رہے گاـ

آج ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف اور يورپي يونين کي نمائندہ کيتھرين ايشٹن ظہرانے پر ويانا مذاکرات کے عمل کا جائزہ ليں گےـ اس سے پہلے وزير خارجہ ظريف نے کيتھرين ايشٹن سے ہونے والي ملاقات کو مثبت قرار ديتے ہوئے کہا کہ جامع ايٹمي معاہدے کا انحصار فريق مقابل کے سياسي ارادے پر ہےـ کيتھرين ايشٹن کے ساتھ منگل کي ملاقات کے بعد جواد ظريف نے نامہ نگاروں سے گفتگو ميں کہا کہ ملاقات بہت اچھي رہي، اس ميں يہ فيصلہ کيا گيا کہ مذاکرات کے عمل کو کس طرح آگے بڑھايا جائےـ
انہوں نے کہا کہ اب ساري چيزوں کا انحصار فريق مقابل کي سياسي قوت ارادي پر ہےـ جواد ظريف اور کيتھرين ايشٹن کي يہ ملاقات گروپ پانچ جمع ايک کے ساتھ ايران کے ايٹمي مذاکرات کے آخري دور کا مقدمہ تھي ـ مذاکرات انيس سے چوبيس نومبر تک انجام پائيں گےـ مذاکرات کے لئے ويانا پہنچنے پر ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ہم اميد کرتے ہيں کہ مذاکرات کے آخري دور ميں ايسا معاہدہ ہو جائے گا جس سے ايران کے ايٹمي حقوق پورے ہوتے ہوںـ انہوں نے کہا کہ پريشر گروپ کو خوش کرن کے لئے بے معني ريڈ لائنيں پيش کرنے سے ايٹمي مسئلے کے حل ميں کوئي مدد نہيں ملے گي ـ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات ميں سب سے بڑي رکاوٹ ايران پر عائد سبھي پابنديوں کا ايک ساتھ اٹھائے جانے کا مسئلہ ہےـ تہران چاہتا ہے کہ ساري پابندياں ايک ساتھ ختم کي جائيں جبکہ اسرائيل نواز لابيوں کے دباؤ ميں واشنگٹن چاہتا ہے کہ کم از کم اقوام متحدہ کي پابندياں جاري رہيں گي۔

.......

/169